Sunday, 20 December 2020

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

 نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے

کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکا یک

نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے

چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے

غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے

قیامت ہیں ظالم کی نیچی نگاہیں

خدا جانے کیا ھو جو نظریں اٹھا لے

کروں ایسا سجدہ وہ گھبرا کے کہہ دیں

خدا کے لیے اب تو سر کو اٹھا لے

تمہیں بندہ پرور ہمیں جانتے ہیں

بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے

بس اتنی سی دوری یہ میں ہوں یہ منزل

کہاں آ کے پھُوٹے ہیں پاؤں کے چھالے

قمر میں ہوں مختار تنظیمِ شب کا

ہیں میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے


استاد قمر جلالوی

No comments:

Post a Comment