زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے
مِری فطرت ستاروں سے اجازت چاہتی ہے
عجب ٹھہراؤ پیدا ہو رہا ہے روز و شب میں
مِری وحشت کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے
میں تجھ کو لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں مری دنیا
مِری تحریر اب ہر پل محبت چاہتی ہے
ادھر منہ زور موجیں دندناتی پھر رہی ہیں
مگر اک ناؤ دریا سے بغاوت چاہتی ہے
احمد اشفاق
No comments:
Post a Comment