Saturday, 2 January 2021

ہر سمت ہیں رسوائیاں اور اکیلی میں

 ”اکیلی میں


ہر سمت ہیں رسوائیاں 

اور اکیلی میں 

اور تری بے وفائیاں

اور اکیلی میں 


تم نے ہے یار بدلی دنیا جو بار بار 

حصے میرے تنہائیاں 

اور اکیلی میں 

 

تم تو ”عادتا“ ہی پہلے شریر تھے 

اوپر سے کج ادائیاں 

اور اکیلی میں 


اک چُوڑی ہاتھ میں تھی جو خود میں نے توڑ دی 

خالی ہوئی کلائیاں 

اور اکیلی میں 


من میں بال کھولے اداسی پڑی رہی 

لیتی رہی جمائیاں 

اور اکیلی میں 


آنکھوں پہ کالا چشمہ قیامت نما لگا 

واہ تیری خود نمائیاں 

اور اکیلی میں 


سارے ہی پارسا ہیں میرے بغیر لوگ 

مِرے اندر برائیاں 

اور اکیلی میں 


تم کو عشق نے ہی پالا ہے گود میں 

مِرے حصے جگ ہسائیاں 

اور اکیلی میں 


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment