تِرے گھر جو اجالے پڑ گئے ہیں
مِرے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں
ہوا ہے ذکر جب بھی بے وفا کا
تیری جاں پر کیوں لالے پڑ گئے ہیں
مِرے حاکم اٹھا لے اپنی بیعت
مجھے گننے نوالے پڑ گئے ہیں
وہ پڑھنے کو فسانہ اور لایا
قراں پہ گھر میں جالے پڑ گئے ہیں
کِیا جب تذکرہ مہر و وفا کا
سبھی کے منہ پہ تالے پڑ گئے ہیں
علؑی کا نام آتے ہی زباں پر
منافق منہ بھی کالے پڑ گئے ہیں
مکمل کرنا نا ممکن ہو جن کا
مجھے لکھنے مقالے پڑ گئے ہیں
تجھے دیکھا رقیبوں کی جو محفل
میرے سینے میں بھالے پڑ گئے ہیں
تِرا رستہ ہمیشہ تکتے تکتے
قریب آنکھوں کے ہالے پڑ گئے ہیں
مِری دیوانگی ہے نا مکمل
اسے اب ہوش والے پڑ گئے ہیں
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment