Thursday, 14 January 2021

سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے

 سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے

اٹھتا ہے دھواں دل سے نگاہوں سے جگر سے

روٹھے ہوئے سورج کو منانے کی لگن میں

ہم لوگ سرِ شام نکل پڑتے ہیں گھر سے

آج اسکے جنازے میں ہے اک شہر صف آراء

کل مر گیا جو آدمی تنہائی کے ڈر سے

اس عہدِ خزاں میں کسی امید کی مانند

پتھر سے نکل آؤں مگر ابر تو برسے

اس شخص کا اب پھر سے کھڑا ہونا ہے مشکل

اس بار گِرا ہے وہ زمانے کی نظر سے


احمد اشفاق

No comments:

Post a Comment