Thursday, 14 January 2021

لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے

 لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے

جگمگائیں گے در و بام یہی لگتا ہے

زیست کی راہ میں تنہا جو بھٹکتی ہوں میں

یہ وفاؤں کا ہے انعام یہی لگتا ہے

ایک مدت سے مسلسل ہوں سفر میں لیکن

منزل شوق ہے دو گام یہی لگتا ہے

اک کلی بر سر پیکار خزاؤں سے ہے

یہ نہیں واقف انجام یہی لگتا ہے

میرے آنے کی خبر سن کے وہ دوڑا آتا

اس کو پہنچا نہیں پیغام یہی لگتا ہے

مجھ کو بھی کر دے گا رسوا وہ زمانے بھر میں

خود بھی ہو جائے گا بدنام یہی لگتا ہے

بھولنا اس کو ہے آسان شبانہ لیکن

مجھ سے ہو گا نہیں یہ کام یہی لگتا ہے


شبانہ یوسف

No comments:

Post a Comment