اوڑھ لی ہے خاموشی، گفتگو نہیں کرنی
دل کو مار دینا ہے ، آرزو نہیں کرنی
اب تمہاری راہوں میں دھول بھی نہیں ہونا
اور، تم کو پانے کی جستجو نہیں کرنی
احترام ہے دل میں اس قدر تِرا جاناں
بات بھی بچھڑنے کی بے وضو نہیں کرنی
اب یقین بھی کوئی میں نہیں دلاؤں گا
اب کوئی شکایت بھی روبرو نہیں کرنی
عاطف سعید
No comments:
Post a Comment