Saturday, 2 January 2021

مسافتوں کی تھکن سے یہ جسم ہارا ہوا

 بدن قبول ہے عریانیت کا مارا ہوا

مگر لباس نہ پہنیں گے ہم اتارا ہوا

وہ جس کے سرخ اجالے میں ہم منور تھے

وہ دن بھی شب کے تعاقب میں تھا گزارا ہوا

پناہ گاہ شجر فتح کر کے سویا ہے

مسافتوں کی تھکن سے یہ جسم ہارا ہوا

مجھے زمین کی پرتوں میں رکھ دیا کس نے

میں ایک نقش تھا افلاک پہ ابھارا ہوا

خریدنے کے لیے اس کو بِک گیا خود ہی

میں وہ ہوں جس کو منافعے میں بھی خسارا ہوا

سما گیا مِرے پیروں کے آبلوں میں سلیم

چلو کہ آج سے یہ خار بھی ہمارا ہوا


سلیم صدیقی

No comments:

Post a Comment