کس لیے جاؤں میں مضطر مِرے اغیار کے پاس
کیا دوا میرے مرض کی نہیں سرکار کے پاس
کیا نہیں ہے یہ ثبوت اپنی وفا داری کا
رکھ دیا کاٹ کے سر آپ کی تلوار کے پاس
جب بھی جاتا ہوں میں ویران حویلی میں کبھی
ایک سایہ سا نظر آتا ہے دیوار کے پاس
شہر میں لکھے پڑھے لوگ بہت ہیں، لیکن
علم و حکمت کی فراوانی ہے دو چار کے پاس
ایک خوشیوں کا خزانہ مجھے ملتا ہے وہاں
جب کبھی ملنے میں جاتا ہوں مِرے یار کے پاس
غم کی دولت کو بھی سینے میں لیے رہتا ہوں
کچھ نہیں رکھا ہے دل میں مِرے دِلدار کے پاس
ان کی ہی چشم عنایت ہے اثر ہے مضطر
جی رہا ہوں جو گدا بن کے میں سرکار کے پاس
تاج مضطر
No comments:
Post a Comment