Tuesday, 2 March 2021

راستے لاکھ سہی کوئی بھی رہبر نہ لگے

 راستے لاکھ سہی کوئی بھی رہبر نہ لگے

یہ بھی ممکن ہے کہ در وا ہو مگر در نہ لگے 

اجنبی لوگ ہیں اس پار کی بستی میں مگر 

مجھ کو اس پار بھی اپنا تو کوئی گھر نہ لگے 

ایسے بچھڑا کہ زمانے سے وہ لوٹا ہی نہیں 

ہے دعا، ایسے پرندے کو کبھی پر نہ لگے

اب کے ڈھونڈوں گی ٹھکانہ میں کوئی دشت کے پاس 

یوں سرِ عام تماشے کا جہاں ڈر نہ لگے 

عکس ہے عکس ارے اس کا تقاضا بھی سمجھ 

آنکھ شیشے کا مقدر ہے تو پتھر نہ لگے 


صباحت عروج

No comments:

Post a Comment