Tuesday, 2 March 2021

اس کے لگتے ہیں یہ انداز نرالے مجھ کو

 اس کے لگتے ہیں یہ انداز نرالے مجھ کو

خود ہی ناراض کرے، خود ہی منا لے مجھ کو

یاد ہیں اب بھی محبت کے حوالے مجھ کو

کاش آواز تو دے، کاش بُلا لے مجھ کو

اپنی دلہن کے حسیں روپ میں ڈھالے مجھ کو

ساری دنیا کی نگاہوں سے چُھپا لے مجھ کو

اک حسیں خواب ہوں، آنکھوں میں سجا لے مجھ کو

اپنے ہر خواب کی تعبیر بنا لے مجھ کو

میں تو خوشبو کی طرح تجھ میں‌ بسی ہوں جاناں!

کہیں کرنا نہ ہواؤں کے حوالے مجھ کو

اس کی چاہت میں عجب حال ہوا جاتا ہے

اس سے کہیے کہ ذرا آ کے سنبھالے مجھ کو

میں‌ کہ دھڑکن کی طرح دل میں‌ بسی ہوں اس کے

میرے گھر سے وہ بھلا کیسے نکالے مجھ کو

اب تو انمول وہی ہے مِری آنکھوں کی ضیا

وہ جو آئے تو نظر آئیں اُجالے مجھ کو​


عائشہ انمول

No comments:

Post a Comment