رات کٹتی ہی نہیں دن بھی بڑا لگتا ہے
عالم ہجر میں جینا بھی سزا لگتا ہے
ایسا لگتا ہے کہ بچنا نہیں ممکن میرا
آپ بتلائیں ذرا آپ کو کیا لگتا ہے
کل تلک اس کی خموشی بھی بھلی لگتی تھی
پر وہ اب بات بھی کرتا ہے بُرا لگتا ہے
کیوں تِری بات اثر کرتی نہیں اب دل پر
کیوں تِرا طرز بیاں آج جدا لگتا ہے
میں جدائی کو نصیب اپنا جو مانوں گا کبھی
پھر یہ کہہ دوں گا مجھے زہر دوا لگتا ہے
کر کرہا ہوں میں کئی روز سے اپنی ہی تلاش
تم کو بتلاؤں گا، جیسے ہی پتہ لگتا ہے
دیکھتا ہی نہیں انجم وہ ہماری جانب
ہم سے ناراض کئی دن سے خدا لگتا ہے
شاداب انجم
No comments:
Post a Comment