Friday, 26 March 2021

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں

 دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں

پھر بھی نہ بن سکا خبر اخبارِ‌ عشق میں

جب مل نہ پایا اس سے مجھے اذنِ گفتگو

میں اک کتاب بن گیا اظہارِ عشق میں

قیمت لگا سکا نہ خریدار پھر بھی میں

جنسِ وفا بنا رہا بازارِ عشق میں

شاید یہی تھی اس کی محبت کی انتہا

مجھ کو بھی اس نے چُن دیا دیوارِ عشق میں

تہہ تک میں کھوج آیا ہوا غرق بار بار

آیا نہ پھر بھی تیرنا منجھدارِ عشق میں


اشرف شاد

No comments:

Post a Comment