تمہی سے گفتگو کا اک ذریعہ ہے
محبت آرزو کا اک ذریعہ ہے
جسے تم لوگ روشندان کہتے ہو
خدا سے گفتگو کا اک ذریعہ ہے
پلٹ آتے ہیں زینے پر جو ہم جا کر
ادھوری جستجو کا اک ذریعہ ہے
مِرے چہرے پہ تیرا پھونکتے رہنا
میاں میرے وضو کا اک ذریعہ ہے
جسے ڈھلوان کہتے ہیں سبھی توحید
یہ بہتی آب جُو کا اک ذریعہ ہے
توحید زیب
No comments:
Post a Comment