Thursday, 1 April 2021

اب جو بھی یہ در کھٹکائے اس کو در کھٹکانے دو

 اب جو بھی یہ در کھٹکائے اس کو در کھٹکانے دو 

اور جو دل سے جانا چاہے اس کو فوراً جانے دو 

اپنی محبت سولہ آنے تھی، سو اب تک باقی ہے 

اس کی محبت کے کیا کہنے جس کی قیمت آنے دو

تم نے ہم کو چھوڑ دیا تو اب کیوں پیچھا کرتے ہو 

جتنی تھی بربادی ہو گئی، اب ہم کو پچھتانے دو 

دوست! ہمارا دل ٹوٹا ہے، کیوں ہم کو بہلاتے ہو 

آنسو ہم کو پی لینے دو رنج و غم بس کھانے دو 

دو جمعوں کی بات نہیں اپنا رشتہ تھا صدیوں کا 

بے شک ایک صدی نہ دو پر کچھ تو سوگ منانے دو 

مرگ کے بستر سے اُٹھے ہیں زہرا ہم کو نہ ٹوکو 

اپنی ہر اک نادانی پہ ہنسنے، شور مچانے دو


عروج زہرا زیدی

No comments:

Post a Comment