Thursday, 1 April 2021

چلو دیکھ آئیں عدم کچھ نہ کچھ

 چلو دیکھ آئیں عدم کچھ نہ کچھ

ذرا دیر کو ہوں بہم کچھ نہ کچھ

اُڑا لائیں ہونٹوں سے شادابیاں

چُرا لائیں زُلفوں سے خم کچھ نہ کچھ

ہمیں ایک سجدے کی ہے جستجو

کہ رہ جائے اپنا بھرم کچھ نہ کچھ

کبھی تو وہ ڈالے گا ہم پر نظر

کرے گا وہ ہم پر کرم کچھ نہ کچھ

جو کم ہے زیادہ کرے گا ضرور

زیادہ کرے گا وہ کم کچھ نہ کچھ

مِرے سامنے بھی عیاں ہے جہاں

مِرے جام میں بھی ہے جم کچھ نہ کچھ

نئے شعر ہم بھی کہیں گے کبھی

چلے گا ہمارا قلم کچھ نہ کچھ


ضیا الحسن

No comments:

Post a Comment