Friday, 2 April 2021

تجھے مطلب ہے ادا سے تیری

 تجھے مطلب ہے ادا سے تیری

کوئی مرجائے بلا سے تیری

تُو نے بندوں کی کہاں سننی ہے

بات کرتا ہوں خدا سے تیری

میں نے اس واسطے کھڑکی کھولی

آنکھ کھُل جائے ہوا سے تیری

ایک بس تیری کمی ہے سائیاں

اور سب کچھ ہے عطا سے تیری


علی ارتضیٰ

No comments:

Post a Comment