میری بانہوں میں بس اک بار سمٹ کر جائے
اس کو جانا ہے تو پھر مجھ سے لپٹ کر جائے
اس کا مطلب تو یہی ہے کہ جدا ہونا ہے
جب کوئی جاتے ہوئے جام اُلٹ کر جائے
میرے چہرے کو بھی تفصیل سے پڑھ لے کوئی
جلدی جلدی نہ ورق ایسے پلٹ کر جائے
اس سے کہنا میرے سائے میں نہ آ کر بیٹھے
ایک گرتی ہوئی دیوار سے ہٹ کر جائے
عشق دیمک کی طرح ہے اسے تتلی نہ سمجھ
ایک لمحے میں یہ انسان کو چٹ کر جائے
یاسین ضمیر
No comments:
Post a Comment