Sunday, 2 May 2021

بسر گئے ہو مرے ذہن سے اتر گئے ہو

 بِسر گئے ہو مِرے ذہن سے اُتر گئے ہو

بھرا پُرا تھا مکاں جس کو خالی کر گئے ہو

میں لے کے بیٹھا ہوا تھا تمہاری راہ میں پھول

نگاہ بھی نہیں کی تم نے اور گزر گئے ہو

مجھے بھی دیکھو میں آندھی گزار آیا ہوں

چلی ذرا سی ہوا، اور تم بکھر گئے ہو

میں اپنے جسم کی میت اٹھائے پھرتا ہوں

عجیب شخص ہو تم زندگی سے ڈر گئے ہو

یہ جتنا رُوپ ہے تم پر ہمارے دم سے ہے

ہمارے قرب کے جادو ہی سے نکھر گئے ہو

بس ایک خواب ہی مانگا تھا تم سے لیکن تم

کسیلے پانی کے چھینٹوں سے آنکھ بھر گئے ہو


ریاض ساغر

No comments:

Post a Comment