بسائے دل میں اسے حرفِ مدعا کی طرح
کتاب دل میں رکھا خواب نارسا کی طرح
غرورِ حسن عجب ہے کہ اپنی ہستی میں
بنا ہوا ہے سر انجمن خدا کی طرح
ہر ایک سمت طلسمی سوال رکھے تھے
یہ شہر، شہر بنا، شہر نینوا کی طرح
گیا جو شہر تمنا سے روٹھ کر یارو
اجڑ گیا ہے چمن، میرا بھی سبا کی طرح
ہر ایک غم سے ملی ہے نجات یوں لوگو
کہ میری ماں کا رہا ہاتھ ہے دعا کی طرح
اکرام الحق
No comments:
Post a Comment