Wednesday, 2 June 2021

مرے گھر کے رستے میں دو باغ ملتے ہیں

 حویلی


مِرے گھر کے رستے میں دو باغ ملتے ہیں

ہیں تو پھلوں کے، مگر پھول بھی ان میں کھلتے ہیں

خوشبو سے بھاری ہیں، لگتے اناری ہیں

انہیں سرخ باغوں کے اندر حویلی ہے

حویلی ہے کیا، خواب ہے یا پہیلی ہے

حویلی کے اندر بھی اک باغ پھیلا ہے

آنگن کشادہ ہے، پیچھے تو کمرے ہیں

آگے زیادہ ہے، ذرا ہٹ کے پہلو میں

پنجابی کرسی ہے، پیتل منقش ہے 

رنگین پائے ہیں، شوقین تھا جس نے

جھنگ سے منگائے ہیں، کرسی کے تکیے پہ

نیلا کشیدہ ہے، نیلے کشیدے پہ سارے ستارے ہیں

جیسے کسی نے فلک سے اُتارے ہیں

پنجابی کرسی پہ لڑکی اکیلی ہے

یہ جو اکیلی ہے میری سہیلی ہے

انہی پھول باغوں میں بچپن سے کھیلی ہے

وہ اُٹھ کے آتی ہے، شانے سے اپنا

پراندہ ہٹاتی ہے، بالوں میں سونے کی

پنی چمکتی ہے، آنکھوں میں

کاجل کی شوخی دمکتی ہے

مِرے پاس آ کر ذرا مسکراتی ہے

مجھ کو بتاتی ہے؛

ویسے تو سَکھیوں میں تُو مجھ کو پیاری ہے

جھُولا تو وہ لے گی، اب جس کی باری ہے


رفعت ناہید

No comments:

Post a Comment