Tuesday, 1 June 2021

اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

 اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

کیا عجب شے ہوں، محبت نہیں ہوتی مجھ کو

اب کوئی بات نئی بات نہیں میرے لیے

اب کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

دل کا جذبات سے اب کوئی تعلق ہی نہیں

حد تو یہ ہو گئی نفرت نہیں ہوتی مجھ کو 

سخت پہرہ مِرے اندر ہی لگا رہتا ہے

سوچنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی مجھ کو

خواہش وصل کہاں، عشق کہاں، باتیں ہیں

سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو

ایک بجلی سی گری رہتی ہے ارمانوں پر

تم سے ملنے کی بھی حسرت نہیں ہوتی مجھ کو

یاد آتی نہیں بیتی ہوئی باتیں دل کو

یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی مجھ کو

اب تو خوشبو بھرا جھونکا بھی ڈرا دیتا ہے

نامۂ لُطف کی چاہت نہیں ہوتی مجھ کو


صوفیہ بیدار

No comments:

Post a Comment