Tuesday, 1 June 2021

نشان سجدہ سبھی شہر کی جبین پہ تھا

 نشانِ سجدہ سبھی شہر کی جبین پہ تھا

بس ایک داغ تھا جو میری آستین پہ تھا

یہ دشت وشت اچانک سے بن گئے ہیں یہاں

وگرنہ میں تو بہت معتدل زمین پہ تھا

ہوا پہ تیری توجہ پہ یا کہ روشنی پر

بقائے ارض کا دار و مدار تین پہ تھا

اسی لیے تو سبھی تیر خالی جا رہے تھے

جسے نظر نہیں آتا وہ دوربین پہ تھا

عذاب لازمی ٹھہرا تھا شہر پر کیونکہ

یہاں کے لوگوں کا تکیہ منافقین پہ تھا

میں ظاہراً تو خدا سے علیحدہ رہتا تھا

یقین سارا اسی آسماں نشین پہ تھا

اسی لیے میں فلک زادوں کو پسند نہیں

کہ میرا پہلا قدم دوسری زمین پہ تھا


ذکی عاطف

No comments:

Post a Comment