Tuesday, 1 June 2021

ہم موند کے پلکیں کبھی رویا نہیں کرتے

 ہم موند کے پلکیں کبھی رویا نہیں کرتے

آنکھوں میں جو آنسو ہو تو سویا نہیں کرتے

ہر تلخ حقیقت کو اڑاتے ہیں ہنسی میں

ہم لوگ کسی بات پہ رویا نہیں کرتے

اک عمر گزاری ہے تو معلوم ہوا ہے

کشتی کو کنارے پہ ڈبویا نہیں کرتے

آنکھوں سے جو جھڑتے ہیں وہ آنسو ہی بہت ہیں

کلیوں کا تو ہم ہار پرویا نہیں کرتے

زیبائشِ دامانِ محبت ہے اسی سے

لگ جائے اگر داغ تو دھویا نہیں کرتے

اظہارِ محبت کبھی اس دشمنِ جاں سے

اس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہیں کرتے

کھو کر تمہیں احساس ہوا مجھ کو یہ شہناز

یوں پا کے کسی دوست کو کھویا نہیں کرتے


شہناز نقوی

No comments:

Post a Comment