اترے جو ذرا شب کی خماری تِری جس دم
اور آنکھ کھلے نیند کی ماری تری جس دم
پھر دیکھ مجھے ہو گئی قربان میں تجھ پر
اور نذر بھی یوں جھٹ سے اتاری تری جس دم
سرکے ہی چلے آتے تھے ماتھے پہ یہ گھونگھٹ
سنوارے بہت زلف سنواری تری جس دم
زربافی سے باتوں کی مرے دل کو لپیٹا
چمکی تھی بہت سلمہ ستاری تری جس دم
بھنورا سی بنی پھرتی ہوں میں صحنِ چمن میں
گلگشت کو آتی ہے سواری تری جس دم
خوشبو میں کوئی عطر سا پیغام بھی ہو گا
گلیوں میں چلی بادِ بہاری تری جس دم
جھولا میں جھلاؤں گی تجھے پی کے نگر کا
آئے گی سکھی پینگ کی باری تری جس دم
رفعت ناہید
No comments:
Post a Comment