Tuesday, 1 June 2021

خوب تر کی جسے تلاش نہیں

 خوب تر کی جسے تلاش نہیں

اس پہ جینے کا راز فاش نہیں

روح کا انگ انگ زخمی ہے

جسم پر ایک بھی خراش نہیں

میں نے پا تو لیا خدا کو مگر

وہ میرا حاصلِ تلاش نہیں

خود تراشو مجسمے اپنے

زندگی دستِ بت تراش نہیں

گرچہ طوفاں ہے زیرِ آب ندیم

سطحِ دریا پہ ارتعاش نہیں


مقسط ندیم

No comments:

Post a Comment