Tuesday, 1 June 2021

جیسے اسے قبول تھا کرنا پڑا مجھے

 جیسے اسے قبول تھا کرنا پڑا مجھے

ہر زاویے سے خود کو بدلنا پڑا مجھے

یادوں کی ریل اور کہیں جا رہی تھی پھر

زنجیر کھینچ کر ہی اُترنا پڑا مجھے

ہر حادثے کے بعد کوئی حادثہ ہوا

ہر حادثے کے بعد سنبھلنا پڑا مجھے

چاہا تھا اس نے میری اُداسی حسین ہو

حُزن و ملال میں بھی نکھرنا پڑا مجھے

پہلے مُکر گئی میں کسی اور بات سے

پھر اپنی بات سے بھی مُکرنا پڑا مجھے


زہرا شاہ

No comments:

Post a Comment