بظاہر تو سب بھائی یک جان ہیں اب
مگر رشتے اندر سے سرطان ہیں اب
تِرے بعد ماں، گھر میں دیوار اُٹھی
گلستاں تھے جو گھر، وہ زندان ہیں اب
لبوں کی منڈیروں پہ لفظوں کے پنچھی
صدا سے ہیں محروم، حیران ہیں اب
وہ بوڑھا شجر گھر کا جب سے گرا ہے
کڑی دھوپ ہے، سائے انجان ہیں اب
یہ کمرہ، یہ آنگن، وہ پودے، وہ اُترن
تِرے بعد سارے ہی سنسان ہیں اب
مِری خشک آنکھوں کے صحرا میں جھانکو
کہ اندر سے یہ کتنی ویران ہیں اب
مجھے آخری ایک ہچکی ہے باقی
یہ ابرو، یہ مژگاں تو بے جان ہیں اب
وہ بچپن کی یادیں، یہ زخمِ نو حامی
یہی میرے جینے کا سامان ہیں اب
حمزہ حامی
No comments:
Post a Comment