حیرت کتابِ عشق کا پڑھنا تمام شد
لیکن ہے اس کے بعد تو جینا تمام شد
ہے لطفِ حرف و لذتِ تحریر پہ نگاہ
مضمون خط کا دیکھ ہے رشتہ تمام شد
تھا دل میں اک خیال نہ لائے بروئے کار
حسرت تمام شد کہ تمنا تمام شد
پیاسی ہے روح، عشق میں، علم و ہنر کے یوں
پی لوں جو گھونٹ گھونٹ، ہو دریا تمام شد
رنجش کی نذر ہو گئے چاہت کے صبح و شام
قصہ ہوا تمام، تماشہ تمام شد
اب سوچتے نہیں کہ غلط کیا ہے کیا درست
حجت تمام شد، کہ عقیدہ تمام شد
اب تیرے بعد ختم ہے ساری شگفتگی
روتے ہیں زار زار ہے ہنسنا تمام شد
جب بدگمانیاں ہوں تو بڑھتی ہیں رنجشیں
تب دو دلوں کے عشق کا قصہ تمام شد
دشوار ہے لوں سانس مکدر فضا میں اب
لگنے لگا کہ شمسہ تماشا تمام شد
شمسہ نجم
No comments:
Post a Comment