چلو پھر سے محبت کی کوئی ہم بات کرتے ہیں
جو بھی ہیں تلخ سارے دفن وہ جذبات کرتے ہیں
نہیں کچھ بھی ہوا حاصل جہاں میں ایسے لوگوں کو
یہاں جو بات نفرت کی فقط دن رات کرتے ہیں
امانت مال و دولت کو سمجھتے ہیں جو دنیا میں
خدا کی راہ میں دل سے وہی خیرات کرتے ہیں
درندے اب مزے سے کھلتے ہیں خون کی ہولی
جو قاتل ہیں خوشی سے ان کو اپنے ساتھ کرتے ہیں
بہت مشکل پرندوں کا ہے اب اڑنا یہاں محسن
انہیں اڑنے سے پہلے قید میں حالات کرتے ہیں
محسن کشمیری
No comments:
Post a Comment