جاگتی آنکھ بھی خوابوں سے لپٹ جاتی ہے
یاد تیری مِرے لمحوں سے لپٹ جاتی ہے
ہے مِرے گاؤں کی مٹی کو محبت مجھ سے
چلنے لگتا ہوں تو پیروں سے لپٹ جاتی ہے
سچ ہے تنہائی نہیں دوست بنانی پڑتی
خود بخود درد کے ماروں سے لپٹ جاتی ہے
تیرے آ جانے سے بڑھ جاتی ہے گھر کی رونق
روشنی خود ہی چراغوں سے لپٹ جاتی ہے
تھام لیتا ہوں میں دامن جو تِری یادوں کا
زندگی خوب سہاروں سے لپٹ جاتی ہے
کون شہزاد پکارے ہے مجھے پیچھے سے
کس کی آواز ہے کانوں سے لپٹ جاتی ہے
شہزاد جاوید
No comments:
Post a Comment