Wednesday, 2 June 2021

ہنس کھیل کر گزارو گھڑی تم شباب کی

 ہنس کھیل کر گزارو گھڑی تم شباب کی

ہوتی ہے مختصر سی حیاتی حباب کی

اس بات پر ہوئے ہیں خفا اہلِ گلستاں

چُومی تھی میں نے پنکھڑی اک دن گلاب کی

وہ شب جو استعارہ بنی تھی وصال کا

قصہ شباب کا وہ کہانی ہے خواب کی

اک شخص بن گیا ہے مِرے دل کا اب سرور

جس میں رچی ہوئی ہے جھلک ماہتاب کی

اپنے گُنہ کو دے کے کسی دوسرے کا نام

نِبھتی ہے خوب رسم یہاں احتساب کی

مجھ سے جو ہجرتوں کے سفر میں ملا تھا رض

اب تک وجود میں ہے مہک اس گلاب کی


رضوانہ ملک

No comments:

Post a Comment