Sunday, 25 July 2021

میں شہر ذات میں مدہوش کب تلک رہتا

میں شہر ذات میں مدہوش کب تلک رہتا

سفر کی گرد میں خاموش کب تلک رہتا

خوشی کو ڈھونڈنے نکلا اُداس شہر سے دل

غموں کی بن کے یہ آغوش کب تلک رہتا

مِری سرشت کا مادہ خطا سے عاری نہیں

سو اس جہان میں نردوش کب تلک رہتا

لگا رہا تھا مسلسل وہ تہمتیں مجھ پر

میں پھر وہاں ہمہ تن گوش کب تلک رہتا

مجھے بھی ڈھونڈ لیا کائنات نے آخر

میں اپنے آپ میں روپوش کب تلک رہتا

خودی فروش نہ تھا اس لیے میں ٹوٹ گیا

نئے زمانے کی پاپوش کب تلک رہتا

جگا دیا مجھے دنیا کی اس حقیقت نے

خلیل اس کا مے نوش کب تلک رہتا


خلیل الرحمٰن خلیل

No comments:

Post a Comment