دو ہاتھوں کا کھیل
دو ہاتھوں کا کھیل ہے سارا
سُر سے تال کا میل ہے سارا
گوری باورچی خانے میں
جُھوٹے برتن مانجھ رہی ہے
سانول باہر جلتی دُھوپ میں
کھیت سے چارا کاٹ رہا ہے
بُوڑھا درزی باریکی سے
سُوئی میں دھاگا ڈال رہا ہے
کُوزہ گر کی چابک دستی
اپنے منہ سے بول رہی ہے
تکڑی سب کچھ تول رہی ہے
لکڑی کی بندوق اُٹھائے
بندر فوجی بنا ہوا ہے
بچے تالی پیٹ رہے ہیں
ڈاکٹر ضیاءالرشید
No comments:
Post a Comment