یہ گزشتہ کے حوالے نہیں جاتے مجھ سے
اس لیے رابطے پالے نہیں جاتے مجھ سے
آنے والوں کے لیے گھر کو کُھلا رکھا ہے
رنج زنجیر میں ڈھالے نہیں جاتے مجھ سے
بدلہ لینے کے لیے سوچتا ہوں میں، لیکن
دوست نیزے پہ اُچھالے نہیں جاتے مجھ سے
دیکھنے والا اکیلا ہوں یہاں پر شاید
خواب اتنے ہیں سنبھالے نہیں جاتے مجھ سے
کھانا کھانے کا مزا دوستوں میں آتا تھا
اور اب منہ کے یہ چھالے نہیں جاتے مجھ سے
چھوڑ آیا ہوں میں احسان تِری چوکھٹ پر
اپنے امکان اُٹھا لے، نہیں جاتے مجھ سے
بات ایسی تھی زباں اپنی جلا بیٹھا ہوں
شاہد اب کھائے نوالے نہیں جاتے مجھ سے
شاہد اشرف
No comments:
Post a Comment