Thursday, 19 August 2021

سیاہ رات میں جگنو کو ساتھ رکھتے ہیں

 سیاہ رات میں، جگنو کو ساتھ رکھتے ہیں

سفر میں ہم تِری خوشبو کو ساتھ رکھتے ہیں 

تمام عمر، ہے دُکھوں سے فرار نا ممکن

جو قہقہے ہیں، وہ آنسو کو ساتھ رکھتے ہیں

بدل دیا ہے سیاست نے ساری قدروں کو 

شریف لوگ بھی، سادھو کو ساتھ رکھتے ہیں

بہادری کی روایت بدل دی دنیا نے

وہ سوُرما ہیں جو ڈاکو کو ساتھ رکھتے ہیں 

جسے زمانہ محبت کا نام دیتا ہے 

رئیس ہم اسی خوشبو کو ساتھ رکھتے ہیں


رئیس صدیقی

No comments:

Post a Comment