چراغ صبر کے جس نے جلائے رویا ہے
ہوا سے ربط و تعلق بڑھائے رویا ہے
سلگتے خوابوں کی تعبیر کی بناوٹ میں
جو اپنی آنکھیں مسلسل جگائے رویا ہے
یہی نہیں کہ پرندے لہو بہاتے ہیں
اداس تنہا شجر بھی تو ہائے رویا ہے
سمجھ لو پانی سے نسبت اسے رہی ہو گی
جو کینوس پہ سمندر بنائے رویا ہے
میں جانتی ہوں وہ اک شخص وصل کا مارا
پرائے ہجر کا جو رنج اٹھائے رویا ہے
فرح خان
No comments:
Post a Comment