زخمی پروں میں ڈال کر اس کے نگر کی خاک
ہیکل سمندروں سے اُٹھا لی سفر کی خاک
خوابوں کے جسم ڈھیر خرابوں میں غم کے تھے
دل نے پر اس کھنڈر سے اُٹھا لی نظر کی خاک
سر میں ہوا بھری تھی خلاؤں کے بست کی
قدموں میں آ پڑی ہے ستاروں کے زر کی خاک
کب تک مسافتوں ہی سے مٹی خراب ہو
اس بار رہ میں بیٹھیں گے لے کر حضر کی خاک
ان بستیوں کو قیس کے قدموں کی لو ملے
کُوچوں میں شب کے یار جلا آئے سر کی خاک
ارسلان راٹھور
No comments:
Post a Comment