Tuesday, 21 September 2021

ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

 ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

پھر بھی دنیا کی نگاہوں میں گنہگار ہوں میں

گردش وقت نے اس حال میں چھوڑا ہے مجھے

اب کسی شہر کا لوٹا ہوا بازار ہوں میں

در پہ رہنے دے مجھے ٹاٹ کا پردہ ہی سہی

تیرے اسلاف کا چھوڑا ہوا کردار ہوں میں

کتنا مضبوط ہے اے دوست تعلق کا محل

برف کی چھت ہے جو تو ریت کی دیوار ہوں میں

خون بر دوش ہوں میں زنگ رسیدہ تو نہیں

ہے مجھے فخر کہ ٹوٹی ہوئی تلوار ہوں میں

یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تُو

یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں

ہاتھ پھیلا تو کسی سائے نے روکا حامد

اس سے پوچھا تو کہا؛ جذبۂ خود دار ہوں میں


حامد مختار

No comments:

Post a Comment