ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں
پھر بھی دنیا کی نگاہوں میں گنہگار ہوں میں
گردش وقت نے اس حال میں چھوڑا ہے مجھے
اب کسی شہر کا لوٹا ہوا بازار ہوں میں
در پہ رہنے دے مجھے ٹاٹ کا پردہ ہی سہی
تیرے اسلاف کا چھوڑا ہوا کردار ہوں میں
کتنا مضبوط ہے اے دوست تعلق کا محل
برف کی چھت ہے جو تو ریت کی دیوار ہوں میں
خون بر دوش ہوں میں زنگ رسیدہ تو نہیں
ہے مجھے فخر کہ ٹوٹی ہوئی تلوار ہوں میں
یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تُو
یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں
ہاتھ پھیلا تو کسی سائے نے روکا حامد
اس سے پوچھا تو کہا؛ جذبۂ خود دار ہوں میں
حامد مختار
No comments:
Post a Comment