Tuesday, 21 September 2021

یہ کن حدوں میں ہمارا دل غریب آیا

یہ کن حدوں میں ہمارا دل غریب آیا

سحر کی چاپ پہ خدشہ ہوا رقیب آیا

تمام عمر میں ڈھونڈا کیا اجالوں کو

نہ تیرا درد بھٹک کر مِرے قریب آیا

ہزار بار اسی راستے سے گزرا ہے

مِرا وجود جو اب کوچۂ صلیب آیا

اسی کے ساتھ گزاری ہیں سینکڑوں گھڑیاں

وہ ایک شخص جو مجھ تک بہت عجیب آیا


میر نقی علی خاں ثاقب

No comments:

Post a Comment