گرمئ غم جو ستائے تو گِلہ مت کیجیۓ
رنج ہمزاد بنائے تو گلہ مت کیجیۓ
اس کو معلوم اندھیرے سے ہے رغبت ہم کو
پھر بھی وہ دِیپ جلائے تو گلہ مت کیجیۓ
جلوۂ طور کسی آنکھ میں آنے سے رہا
وہ اگر رُخ کو چُھپائے تو گلہ مت کیجیۓ
شاد ہوں میں کہ محبت ہے اسے مجھ سے بھی
دل کسی سے وہ لگائے تو گلہ مت کیجیۓ
خود غرض جگ میں کبھی وقتِ ضرورت سنقر
اپنے ہو جائیں پرائے تو گلہ مت کیجیۓ
سنقر سامی
No comments:
Post a Comment