Monday, 20 September 2021

ورکنگ لیڈی میں جب بھی گھر پہ آتی ہوں

 ورکنگ لیڈی


میں جب بھی گھر پہ آتی ہوں

بہت سی چیزیں لاتی ہوں

اور ان چیزوں میں اکثر

خود کو رکھ کر بھول جاتی ہوں

پتا اس وقت چلتا ہے

کہ جب تکیے پہ رکھنے کو

مجھے سر ہی نہیں ملتا

میسر خواب کیسے ہوں

کہ آنکھیں ہی نہیں ہوتیں

تھکن سے چور ہاتھوں کی

میں جب جب سسکیاں سنتی ہوں

اپنی کرچیاں چنتی ہوں

پہلو میں کہیں دل بھی نہیں ملتا

مجھے بس پاؤں ملتے ہیں جو پاؤں پاؤں چلتے

مجھے لے جاتے ہیں اک ایسے کمرے میں

جہاں پر کوئی میرا جسم اوڑھے سو رہا ہے

یہ کس نے سوئیاں سی روح میں میری چبھو دی ہیں

میں خود کو توڑ دیتی ہوں وہیں پر چھوڑ دیتی ہوں

سو بس چپ چاپ گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتی ہوں

ہوائیں بین کرتیں جب برابر سے گزرتی ہیں

پکڑ کر ہاتھ ان کا پاس ہی اپنے بٹھاتی ہوں

نئے کچھ دیپ روشن کر کے خود بھی مسکراتی ہوں

ذرا سی ایک عورت ہوں

دیوں کی لو میں لیکن جگمگاتی ہوں


الماس شبی

No comments:

Post a Comment