کچھ تعلق مخلصانہ چاہیۓ
بات کا کوئی بہانہ چاہیۓ
ہم ہیں بنجارے محل سے کیا غرض
کوئی ٹوٹا آشیانہ چاہیۓ
بعد مرنے کے مثالیں دے جہاں
یوں محبت کو نبھانا چاہیۓ
چند لمحوں کا تعلق تھا جسے
بھولنے کو اِک زمانہ چاہیۓ
نفرتوں کے گیت سنتے تھک گئے
اب محبت کا ترانہ چاہیۓ
کام ادھورا ہے جلا کر چل دئیے
راکھ کو بھی تو اڑانا چاہیۓ
جس گلی میں یار ہو بن کے فقیر
اس گلی میں آنا جانا چاہیۓ
بھوک ہے بس یار کے دیدار کی
کب کہا ہے آب و دانہ چاہیۓ
اس کو سمجھاؤ بٹھا کر پیار سے
کوئی بلوائے تو جانا چاہیۓ
دل میں باسط اور کچھ حسرت نہیں
قلبِ جاناں میں ٹھکانہ چاہیۓ
باسط علی حیدری
No comments:
Post a Comment