Saturday, 2 October 2021

کچھ تعلق مخلصانہ چاہیے

 کچھ تعلق مخلصانہ چاہیۓ

بات کا کوئی بہانہ چاہیۓ

ہم ہیں بنجارے محل سے کیا غرض

کوئی ٹوٹا آشیانہ چاہیۓ

بعد مرنے کے مثالیں دے جہاں

یوں محبت کو نبھانا چاہیۓ

چند لمحوں کا تعلق تھا جسے

بھولنے کو اِک زمانہ چاہیۓ

نفرتوں کے گیت سنتے تھک گئے

اب محبت کا ترانہ چاہیۓ

کام ادھورا ہے جلا کر چل دئیے

راکھ کو بھی تو اڑانا چاہیۓ

جس گلی میں یار ہو بن کے فقیر

اس گلی میں آنا جانا چاہیۓ

بھوک ہے بس یار کے دیدار کی

کب کہا ہے آب و دانہ چاہیۓ

اس کو سمجھاؤ بٹھا کر پیار سے

کوئی بلوائے تو جانا چاہیۓ

دل میں باسط اور کچھ حسرت نہیں

قلبِ جاناں میں ٹھکانہ چاہیۓ


باسط علی حیدری

No comments:

Post a Comment