Saturday, 2 October 2021

سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا

 سچ تو یہ ہے کہ اسے دھوپ نے گرمایا تھا

ہاں وہ پودا جو تِری چھاؤں میں کمہلایا تھا

رات کس نے مِری تنہائی کو مہکایا تھا

بوئے گل آئی تھی یا تیرا خیال آیا تھا

دیکھنے والے وہ منظر نہیں بھولے اب تک 

میں کبھی آپ کی آنکھوں میں نظر آیا تھا 

کتنے قصوں کو دیا جنم تِرے اشکوں نے 

میں بہت خوش تھا کہ دامن مِرا کام آیا تھا 

کچھ خیال آیا سرابوں میں بھٹکنے والے 

کس کی آواز نے دریا پہ تجھے لایا تھا 

اب تو بہتر ہے یہی کچھ بھی نہ یاد آئے نعیم

موسمِ گل میں کسے کھویا تھا کیا پایا تھا 


نعیم اختر

No comments:

Post a Comment