طاقت کا ہے غرور جنوں ہے خمار ہے
ایسے ہی آدمی کے مقدّر میں ہار ہے
ہے دیس میرا گرچہ خزاں کی لپیٹ میں
مٹی سے میں جُڑا ہوں، اُمیدِ بہار ہے
جذبات سے جو کھیلے کسی وضعدار کے
بدبخت نامراد سزاوارِ دار ہے
سچ مان لوں دلیل مناظر کی میں اگر
فرقہ تو جیت جائے گا مذہب کی ہار ہے
اک جنگ خیر و شر میں ہمیشہ سے ہے لگی
مومن کے واسطے یہ جہاں کارزار ہے
پھر کیسے پڑ سکے گی عزازیل کی نظر
رب کی عنایتوں کا وطن پر حصار ہے
اک دستخط کے بدلے ہیں لاکھوں کما لیے
ایسا ہی سُود مند مِرا کاروبار ہے
عامر شہزاد تشنہ
No comments:
Post a Comment