Friday, 22 October 2021

ہجرتوں کے ہر سفر نے حشر یوں برپا کئے

 ہجرتوں کے ہر سفر نے حشر یوں برپا کئے

قربتوں میں فاصلے در فاصلے پیدا کئے

ہر قدم پر اس جہاں میں جِن کی خاطر دکھ سہے

اُڑ گئے پنچھی وہی سب بِن کوئی پروا کئے

کب پرندے لوٹ آئیں پھر نشیمن کی طرف

ہم اکیلے رات بھر بیٹھے رہے در وا کئے

جب ستارے جھلملا کر چاند تنہا کر گئے

ہم نے بھی گلزار اپنے پھر سبھی صحرا کئے

عمر بھر وہ جبہ و دستار کے اپنے بھرم

بارہا یوں نسلِ نو کے ہاتھ سب رسوا کئے

الجھنوں سے کس نے پایا ہے یہاں رستہ انیس

ہم بہلتے ہی رہے یہ دل بہت سادہ کئے


انیس فاروقی

No comments:

Post a Comment