جو بھی زندہ ہے یہاں قتل کیا جائے گا
دیکھیۓ مجھ کو کہاں قتل کیا جائے گا
ہونٹ سی لوں تو یہ ممکن ہے کہ مہلت مل جائے
کھولتا ہوں جو زباں،۔ قتل کیا جائے گا
مجھ کو آثار بتاتے ہیں یہ بستی ہے جہاں
مرد و زن پیر و جواں قتل کیا جائے گا
وہ سوالات نئی نسل میں جی اٹھیں گے
جن کو بھی زیرِ زباں قتل کیا جائے گا
ایسی بستی کی تباہی تو اٹل ہے مظہر
بے گناہوں کو جہاں قتل کیا جائے گا
مظہر سید
No comments:
Post a Comment