اپنے اس پیار کا اظہار تو کر سکتے تھے
تم مجھے پہلے خبردار تو کر سکتے تھے
یہ الگ بات کہ دل اس پہ نہیں تھا تیار
عشق میں حُسن کو بیمار تو تو کر سکتے تھے
حسرتِ دید نے چھوڑا ہی نہیں دامنِ دل
ہم تِرے ہجر سے انکار تو کر سکتے تھے
اس محبت میں تو تلوار اٹھانے سے رہے
ورنہ دشمن پہ کوئی وار تو کر سکتے تھے
آپ نے بھی تو تڑپتے ہوئے دیکھا ہے مجھے
آپ اس بات کا اقرار تو کر سکتے تھے
کس لیے خود تُو مجھے مارنے آیا ہے یہاں
کام تیرا یہ مِرے یار تو کر سکتے تھے
جانے والوں کو کوئی روک نہیں سکتا شفیق
آخری بار مجھے پیار تو کر سکتے تھے
شفیق عطاری
No comments:
Post a Comment