Saturday, 2 October 2021

بڑی مشکل تھی آسانی سے پہلے

 بڑی مشکل تھی آسانی سے پہلے

یہ دریا برف تھا پانی سے پہلے

شعورِ جذبِ جسمانی سے پہلے

بہت خوش تھا میں نادانی سے پہلے

مِری شاخوں پہ آنکھیں ہی نہیں تھیں

تِرے لمسِ خیابانی سے پہلے

تمہاری دیویاں بھی محترم تھیں

مِری آنکھوں میں عُریانی سے پہلے

ہمارے ہاتھ میں پگھلا تھا لوہا

طلسماتِ سلیمانی سے پہلے

کشادہ ظرف دے ربِ محبت

محبت کی فراوانی سے پہلے

مجھے دیوار و در پہچانتے ہیں

میں گھر والا تھا مہمانی سے پہلے

کھنڈر کے سارے دروازے تھے چھوٹے

مِرے شوقِ حُدی خوانی سے پہلے


علی صابر رضوی

No comments:

Post a Comment