Saturday, 2 October 2021

چاند کی چاندنی سے دھیان ہٹے

 چاند کی چاندنی سے دھیان ہٹے

پھول کی دلکشی سے دھیان ہٹے

دشت میں چل کے گھر بساتے ہیں

شہر کی بے رُخی سے دھیان ہٹے

آؤ مصروف ہوں اذیت میں

دو گھڑی کی خوشی سے دھیان ہٹے

سارے نقصان یاد آتے ہیں

جب کبھی میکشی سے دھیان ہٹے

چھیڑئیے ذکر اُن کی زلفوں کا

رات کی تیرگی سے دھیان ہٹے

دو قدم ساتھ چلنے والوں کی

گہری افسردگی سے دھیان ہٹے

یہ بھلا کیسے یار ممکن ہے

رائیگاں زندگی سے دھیان ہٹے


فیصل امام رضوی

No comments:

Post a Comment